اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے روز تہران میں کرویشیا کے وزیرخارجہ وسناپوسیچ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطی کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پڑوسی ملکوں کے تعاون سے اغیار کی مداخلت کے بغیر علاقے میں مکمل امن و استحکام قائم کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، کہا کہ سعودی عرب کو چاہیئے کہ اچھی ہمسائیگی اور حقیقت پسندی کی بنیاد پر مشترکہ تعاون کی راہ ہموار کرے اسلئے کو علاقائي مسائل کو راہ حل کی اشّد ضرورت ہے اور ایران اس مہم کیلئے مکمل آمادہ ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے میونیخ میں آئندہ سیکیورٹی اجلاس کے موقع پر ممکنہ طور پر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں ابھی کوئي فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے میونیخ اجلاس کو، عالمی بحرانوں کے حل اور امن و استحکام کی برقراری کیلئے بہترین موقع قرار دیا تاکہ اس موقع سے مناسب استفادہ کیا جاسکے۔ محمد جواد ظریف نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بھی کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جامع جوہری سمجھوتے کا حصول بالکل ممکن ہے اور ایران چاہتا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور اسی لئے ایران، مذاکرات کے عمل کی کامیابی کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ نےمغربی اور خاصطور سے امریکی سیاستدانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ جیساکہ بارہا اعلان کیا جاچکا ہے کہ پابندیوں کا نتیجہ، مغرب کو نقصان پہنچنے اور ایرانی عوام میں مغرب سے نفرت بڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں نکلا ہے اسلئے مغرب کو چاہیئے کہ منطقی فیصلہ کرے- اس پریس کانفرنس میں کرویشیا کے وزیر خارجہ نے بھی ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو تہران کا قانونی حق قرار دیا اور جامع جوہری سمجھوتے کے حصول کی ضرورت پر تاکید کی- انھوں نے اسی طرح اسلامو فوبیا اور تشدد و انتہا پسندی کا الزام مسلمانوں پر عائد کئے جانے کے بارے میں کہا کہ کروٹوں اور مسلمانوں کے درمیان کافی عرصے تک قریبی تعاون جاری رہا ہے اور وہ کرویشیا میں انتہا پسندی کے مقابلے میں مسلمانوں کے شائشتہ کردار سے بخوبی واقف ہیں- انھوں نے کہا کہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہیئے کہ دہشتگرد، کسی مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرسکیں- انھوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف اقلیّتوں کے درمیان تعلقات کا فروغ، دہشتگردی کے خلاف مہم میں موثر ثابت ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲